اکثر ہم جانے انجانے میں اپنے ہی نفس کے ہاتھوں ہار جاتے ہیں۔ دل جانتا ہے کہ کیا درست ہے، مگر خواہشیں قدم روک لیتی ہیں۔ کبھی ارادہ مضبوط ہوتا ہے، کبھی کمزوری غالب آ جاتی ہے، اور ہم خود پر ہی حیران رہ جاتے ہیں کہ آخر ہم نے ایسا کیوں کیا۔ مگر شاید یہی انسان ہونے کی سب سے بڑی حقیقت ہے ہم کامل نہیں، بس کوشش کرنے والے ہیں۔
ابلیس ہمیشہ ہمیں یہ یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ ہم بہت بگڑ چکے ہیں، کہ اب پلٹنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ وہ ہماری لغزش کو ہماری پہچان بنا دیتا ہے، حالانکہ اللہ کے نزدیک گناہ انسان کی شناخت نہیں ہوتا۔ رب تو وہ ہے جو ایک آنسو، ایک ندامت، ایک سچی صدا پر بھی رحمت نازل فرما دیتا ہے
اصل کامیابی یہ نہیں کہ ہم کبھی گِریں ہی نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہر بار گر کر اپنے رب کی طرف لوٹ آئیں۔ اگر آج نفس غالب آ گیا ہے تو مایوس مت ہو، کل کا دن توبہ کے لیے ہو سکتا ہے۔ اللہ نیت دیکھتا ہے، دل کا حال جانتا ہے، اور ٹوٹے ہوئے بندوں کو کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا۔ بس امید کا دامن نہ چھوڑو، کیونکہ لوٹ آنا ہی بندگی ہے۔